نئی دہلی،6؍اکتوبر (ایس او نیوز؍یو این آئی) ہندوستان نے امریکہ کی طرف سے پابندیوں کی پرواہ کئے بغیر آج روس سے تقریباً 400 کلومیٹر تک فضا سے فضا میں مار کرنے والے جدید ترین ایر ڈیفنس سسٹم ایس400کی خریداری کے سودے پر دستخط کردئے۔ ہندوستان کے دورے پر آئے روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان آج یہاں ہوئی وفد سطح کی میٹنگ میں اس سودے پر دستخط کئے گئے ۔ ہندوستان5.43ارب ڈالر یعنی تقریباً 40ہزار کروڑ روپے میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے ان غیر معمولی میزائیلوں کے پانچ اسکوارڈن خریدے گا۔ میزائیلوں کی فراہمی دستخط ہونے کے دو سال کے اندر یعنی2020تک شروع ہوجائے گی۔یہ سودا امریکہ کی اس وارننگ کے باوجود کیا گیا ہے جس میں روس سے ہتھیار خریدنے پر اقتصادی پابندی عائد کرنے کی بات کہی گئی ہے ۔ ہندوستان نے وزیر دفاع اوروزیر خارجہ کی سطح پر امریکہ سے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ وہ روس سے ایس 400میزائل کے سودے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔اس نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ اس کے دہائیوں پرانے دفاعی تعلقات ہیں اور ہندوستان طویل عرصے سے دفاعی سازوسامان خرید رہا ہے اور ایس400میزائیل سودے پر بھی طویل عرصے سے بات چیت چل رہی تھی۔امریکہ نے کہا تھا کہ وہ ہندوستان پر کاٹسا (کاؤنٹرنگ امریکہ ایڈورسریز تھرو سینکشن ایکٹ )کے تحت اقتصادی پابندی عائد کرسکتا ہے ۔ اس قانون میں التزام ہے کہ اگر کوئی بھی ملک روس، ایران یا شمالی کوریا سے ہتھیاروں کی خریداری کرتا ہے تو اسے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔میٹنگ کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق ایس400میزائل خریداری سودے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ایس 400میزائل فضا سے فضا میں مار کرنے والا جدید ترین ایر ڈیفنس سسٹم ہے جو روس کی سرکاری کمپنی الماز اینٹے نے تیار کیا ہے اور یہ فضا میں 380کلومیٹر تک کسی بھی ہدف کو نشانہ بناسکتا ہے ۔یہ ڈرون ، طیارہ یا میزائل کسی بھی حملے کو پہلے ہی بھانپ کر فضا میں نیست و نابود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔فضائیہ کے سربراہ ایر چیف مارشل بی ایس دھنووا نے دو دن پہلے ہی کہا تھا کہ ایس400میزائل ایر ڈیفنس سسٹم فوج کے لئے بوسٹر ڈوز کی طرح ہے اور اس سے ہندوستان کی فضائی طاقت کئی گنا بڑھ جائے گی۔ چین اور پاکستان کے پاس جدید ترین جنگی طیاروں کو دیکھتے ہوئے ہندوستان کے لئے یہ میزائیل سسٹم انتہائی ضروری ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس سودے سے یہ پیغام بھی جائے گا کہ ہندوستان اسٹریٹیجک معاملات میں کسی کے دباؤ میں آنے والا نہیں ہے ۔روس امریکی پابندیوں کی مخالفت میں یہ میزائل صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ چند دیگر ملکوں بھی فروخت کرنے کے بارے میں بات کررہاہے ۔ ان میں ناٹو کا اہم ملک ترکی بھی شامل ہے ۔ چین اس میزائل کو پہلے ہی خرید چکا ہے ۔
دہشت گردی سے مقابلہ کا عزم:ہندوستان اور روس نے اپنے خصوصی اور اسٹریٹیجک تعلقات کو نئی جہت دیتے ہوئے آج باہمی تعاون سے دہشت گردی سے مقابلہ ، ماحولیاتی تبدیلی اور ہند بحرالکاہل خطہ میں باہمی تال میل کو فروغ دینے کے عزم مصمم کا اظہار کیا۔دونوں ملکوں کے درمیان ہائیڈرو کاربن کے شعبے میں تعاون کو فرو غ دینے اور روس کے سخالین سے ہندوستان کو سپلائی بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔وزیر اعظم نریندر مودی اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان انیسویں ہندروس اقتصادی چوٹی میٹنگ کے دوران یہ فیصلے کئے گئے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان جن آٹھ معاہدوں پر دستخط کئے گئے ان میں صلاح و مشورہ کے پروٹوکول کو وسعت دینے ، نیتی آیوگ اور روس کے اقتصادی تعاون کی وزارت کے درمیان تعاون، خلاء کے شعبے میں اسرو اور روسکاسموس کے درمیان تعاون، ریلوے ، نیوکلیائی، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور چھوٹی صنعتوں کے شعبوں میں تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔ فرٹیلائزر کے شعبے میں انڈین پوٹاش لمیٹیڈ اور فوس ایگو کے درمیان معاہدہ پر بھی دستخط ہوئے ہیں۔میٹنگ کے بعد مودی اور پوتن کے بیانات میں ایس 400میزائیل ڈیفنس سسٹم کے سودے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا لیکن بعد میں جاری مشترکہ بیان میں اس سودے پر دستخط ہونے کی جانکاری دی گئی۔